مغربی بلقان کے راستوں پر سرحدی کنٹرول بڑھ گیا ہے

سرحدی کنٹرول آسٹریا، کروشیا، بوسنیا اور ہرزیگووینا، اور مونٹینیگرو میں بڑھنے کی توقع ہے، کیونکہ آنے والے نئے مہاجرین کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ ممالک ہجرت کے بہاؤ کو روکتے اور صرف ان مہاجرین کو قبول کرتے ہیں جن کی یہ سرکاری طریقہ کار کے ذریعے مدد کر سکیں .

یہ اقدامات خطے میں مہاجرین کی حرکات پر اثرانداز ہوں گے.

آپکو کیا معلوم ہونا چاہئے، یہاں ہے۔

آسٹریا

آسٹریا پولیس اور مسلح افواج کے تقریبا 1000 ارکان سلووینیائی سرحد کے قریب سپیفیلڈ کے مقام پر 25 جون، سوموار والے دن تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ ایک روزہ سرحدی گشت کی مشق ہوگی جو یہ ثابت کرے گی کہ ان کے فوجی ملک کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرسکتے ہیں.

جون کے آغاز میں, آسٹریا کے مجرمانہ پولیس آفس کے ڈائریکٹر، فرینز لینگ, نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہاں 80,000 سے زائد پناہ گزین ہوسکتے ہیں جو اس وقت مغربی یورپ کی طرف اس علاقے میں آنے کے لیے اپنا راستہ بنا رہے ہیں.

آسٹریا کے قدامت پسند رہنما, سباسچین کرز، نے کہا ہے کہ انکی گورنمنٹ کی ترجیح یورپ کی سرحد پر سیکیورٹی بڑھانا ہے اور غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنا، بشمول یورپی یونین سے باہر پناہ گزین مراکز کی تعمیر ہے.

ملک کارروائی کرنے کے لئے تیار ہے اگر یہ دیکھتے ہیں کہ پڑوسی بلقان ممالک صورت حال کو کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہیں. تاہم، آسٹریا کی بیرونی سرحد کو بلاک کرنے سے، مغربی بلقان کے راستے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں سرحدی بندشوں کا اندیشا ہے.

کروشیا

کروشیا نے پہلے ہی مئی میں بوسنیا اور ہرزیگوینا کے ساتھ ملحقہ سرحد پر پولیس کی موجودگی میں اضافہ کرٍ دیا ہے۔ کروشیا کے صدر کولیندا گرابر کیٹارووِک، نے کہا ہے کہ وہ اس ہجرت کو روکنے کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے اور وہ بوسنیا کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

بوسنیا اور ہرزیگوینا

اگر آسٹریا سلووینیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرتا ہے, تو سربیا اور مونٹینیگرو کے ساتھ، بوسنیا اور ہرزیگووینا کو اپنی سرحدوں کو بند کرنا ہوگا ، بوسنیا کے ڈائریکٹر خارجہ سروس سلووبوڈان یوجک نے خبردار کیا ہے.

جون18 کو، پارلیمانی اسمبلی کے خود مختار بورڈ، جو پولیس کی انچارج ہے، نے فوری طور پر عمل کرتے ہوئے کم از کم 200 مزید پولیس افسران کو اپنی سرحدوں پر تعینات کرنے کا کہا ہے .

سرحدی پولیس کے ترجمان سانیلا جوکووک نے کہا کہ 1،551 کلومیٹر لمبی سرحد کو مکمل طور پر محفوظ کرنے کے لئے، افواج کو مزید وسائل کی ضرورت ہے.

وزراء کی کونسل کے مطابق، حکام نے 2018 کے آغاز سے 6،000 سے زائد افراد رجسٹر کیے ہیں.

بوسنیا کی سرحدی فورسز اب سربیا اور مونٹینیگرو سے آنے والی تمام سامان کی گاڑیوں اور ٹرینوں کی اچھی طرح جانچ کرتے ہیں.

مونٹینیگرو

مونٹینیگرو نے فرنٹیکس کے ساتھ ایک حیثیت کا معاہدہ کیا ہے . اگر اسے 28 یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے منظوری دی جاتی ہے تو، اس معاہدے سے فرنٹیکس کو اٹلی کے ساتھ مونٹینیگرو کے سمندری سرحدی سرحد اور کروشیا کے ساتھ مختصر سرحد پر آپریشنل سرگرمیوں کی اجازت ملے گی.

تاہم، اس کی زیادہ تر سرحد غیر یورپی یونین ریاستوں کے ساتھ ہیں: سربیا، بوسنیا اور کوسوو.

مونٹینیگرو بھی البانیہ کے ساتھ ملحقہ اپنی سرحد پر ریزر وائر باڑ تعمیر کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین میں مہاجرین کی آمد کم ہو. ہنگری نے مدد کرنے کی پیشکش کی ہے.

کور فوٹو © Reuters/Antonio Bronic