یونان اور ترکی کی زمینی سرحد پر ترکی واپس بھیجنا

آپ اس آرٹیکل/مضمون کا استعمال کرتے ہوئے یونان اور ترکی کی زمینی سرحد پر تشدد اور سنگین واپسی ترکی بھیجے جانے کے متعلق مزید پڑھ سکتے ہیں، بشمول :

  • واپسی بھیجنے کے متعلق دلائل/شہادات اور رپورٹس
  • آپکے حقوق اور آپ کیا کر سکتے ہیں

اگرآپکے پاس زمینی سرحد کی صورتِحال کے متعلق مزید سوالات ہیں تو , براہ مہربانی ہمیں فیس بک پر پیغام بھیجنے میں ہچکچاہٹ .محسوس نہ کریں۔ ہم آپکو جوابات دینے کی جلد ازجلد اپنی مکمل کوشش کریں گے۔

یونان اور ترکی دونوں اطراف بھاری تعداد میں سرحدی پولیس اور فوج کا سخت پہرہ ہے ۔

یونانی کونسل برائے برائے پناہ گزین تنظیم(گریک کونسل فار ریفیوجیز) (GCR)نے رپورٹ کیا کہ یونانی پولیس کی پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو سرحدکے راستے یونان داخل ہونے والوں کو واپس بھجنے کے واقعات کی تعداد میں حال ہی میں اضافہ ہواہے جسے زبردستی واپسی کہا جاتا ہے ۔ جی سی آر (GCR )نے کہا، "یونانی پولیس کی طرف سے یہ ایک منظم عمل ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتاہے۔"

جی سی آر، دا ایسوسی ایشن فار دا سوشل سپورٹ آف یوتھ ایند ہیومن رائٹس360 نے ان لوگوں کی مدد سے جنہوں یونان میں داخلے کے لیے ایورس (Evros) کے مقام پر ترکی کے ساتھ ملحقہ سرحد پار کرنے کی کوشش کی اور دسمبر میں اس ایسوسی ایشن نے 39 دلائل/شہادات کے ساتھ اک رپورٹ شائع کی۔

اس رپورٹ کے مطابق، متاثرین میں زیادہ تعداد خاندانوں، حاملہ خواتین، تشدد کے متاثرین اور بچوں کی تعدادبھی شامل ہیں۔ ان کی گواہیاں/شہادات تمام طرح کے رجحانات دکھاتے ہیں، جس میں پولیس اسٹیشن میں ستمگرانه حراست کے ساتھ ساتھ برے حفظان صحت کے حالات، تشدد کا استعمال،سامان کی بربادی اور دریا کے دوسری طرف بھیجنے کے لیے بھری ہوئی کشتیوں کے ذریعے زبردستی منتقلی شامل ہے۔

Konstantinos-Tsakalidis---Al-Jazeera_Evros-Blog_Jan-2019.jpg-correct-copy

درج ذیل میں انکی کچھ گواہیاں/ شہادات ہیں:

18سالہ الجیرین شہری: “میرے دوست کو اتنی بری طرح سے مارا پیٹا گیا تھا کہ جب[پولیس] نے ہمیں واپس ترکی بھیجا تو اسے ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال داخل کروانا پڑا تھا۔۔۔انہوں نے اک ٹرک کو کال کی، جس میں ہوا بھرنے سے چلنے والی کشتی موجود تھی اور جس سے پولیس نے ہمیں واپس ترکی بھیجا۔ انہوں ہماری ذاتی تمام اشیا ضبط کرلی، بشمول ہمارے کپڑے۔ہمیں صرف ہمارے انڈر ویئر کے ساتھ چھوڑا گیا تھا."

21سالہ مصری شہری: “مختلف لمحات میں, اشتعال انگیزی کے بغیر، انہوں نے ہمیں لاتے اور گھونسے مارنا شروع کر دیے۔۔۔ گودام میں, انہوں نے ایک اور جسمانی تلاشی لی، ہمارے پیسے اور موبائل فون بھی لے لیے، اور ہم سے پوچھ گچھ کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے پورے گروپ کو دیوار کےسامنے گھٹنوں کے بل ہوجانے کے لیے مجبور کیا۔ انہوں نے ہمیں وہاں پانی اور خوراک کے بغیر رکھا۔۔۔وہ ہمیں دریا کی طرف لے گئے، انہوں نے ہمیں کشتی پر سوار ہونے کے لیے مجبور کیا اور ہمیں ترکی واپس بھیج دیا۔”

27سالہ شامی شہری: “ہم نے [پولیس افسران] کو ہمارے پاس موجود دستاویزات دکھائی، اور پولیس نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ انہوں ہمیں گرفتار کر لیا اور ہمیں حوالات میں لے گئے۔ہم اس وقت 7 لوگ تھے، 3 خواتین، 3 بچے۔ میرا بھائی اور میں ۔۔۔انہوں نے ہماری چیزوں جو ہمارے بیگوں میں تھیں پھینک دیا، اور ہمارے موبائل فون اور پیسوں کے بارےپوچھا۔ انہوں نے پیسے واپس کر دیے,لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے موبائل فون توڑ دیے۔ اس مکمل عمل کے دوران ہمیں پانی اور خوراک کے بغیر رکھا گیا۔ انہوں نے ہم سے بےبی فارمولا بھی ضبط کر لیا۔ حوالات میں خواتین اور بچوں کو علیحدہ رکھنے کی جگہ کے بغیر اور بھی لوگ موجود تھے۔ وہاں صرف 8 بیڈ اور اک بیت الخلا تھا۔ ہم اسی بیت الخلا سے پانی پیتے تھے، کیونکہ انہوں نے ہمیں پانی نہیں دیا تھا۔”

یواین ایچ سی آر نے بھی عوامی طور پرتشویش کا اظہار کیا ہے اور ہیومن رائٹس واچ نے ایورس (Evros) میں یونانی پولیس کی طرف سے حملوں کی وجہ سے مردوں ک پیٹھ پر اہم نشانوں کے ساتھ فوٹیج کے ساتھ دسمبر میں ہونے والے 24 واقعات کو رپورٹ کیا۔

میرے حقوق کیا ہیں اور میں کیا کر سکتا ہوں؟

خود مختار حراست/حوالات کی یہ رپورٹس، سرحدی حکام کے ہاتھوں تشدد، اور حراستی مراکز میں برےحالات پناہ گزین اور انسانی حقوق کے تحفظ پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔یہ قوانین آپ کو منصفانہ قانونی علاج کا حق فراہم کرتے ہیں اور قیدیوں کی شکنجی یا بدانتظامی کی روک تھام کو روکتی ہیں۔

تنظیم سولیڈیریٹی ناو کے وکلاء نے کہا ہے کہ اگر آپ سرحد پار کرتے ہیں اور یونانی پولیس کا سامنا کرتےہیں تو، آپ کو حق حاصل ہے کہ:

  • سیاسی پناہ کے لیے درخواست کریں اور یہ بھی پوچھیں کہ کیا اس درخواست کا اندراج ہو گیا ہے
  • قانونی معاونت کے لیے پوچھیں
  • ترجمان کے لیے پوچھیں

اگر آپ حراست میں ہیں، توآپ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ پر کون سا الزام لگایا جارہا ہے اور اس عمل کو کس طرح سےچارج کرنا ہے - اگرچہ اس حق کااکثر عملی طور پر احترام نہیں کیا جاتا ہے۔

اگر حکام اوپر بیان کر دہ درخواستوں کا جواب نہیں دیتے ہیں یا آپ اپنے اس تجربے کی رپورٹ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ رابطہ کرسکتے ہیں:

فرنٹیکس اپنی شکایت کے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے نگرانی کرتا ہے کہ آیا آپ کے بنیادی حقوق کا اس کے تمام سرحدی آپریشنوں میں احترام ہے۔

آپ انسانی حقوق کی نگرانی (Human Rights Watch) سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں، جو انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے بارے میں بیداری بڑھانے اور ان پالیسیوں کو ختم کرنے کی وکالت کے لیئے ٹسٹیمونیلز جمع کرتی ہیں. تاہم، وہ آپ کی جانب سے سرکاری شکایات درج یا قانونی مدد فراہم نہیں کرسکتی.

مزید معلومات کے لیے یہاں تلاش کریں کہ کیا توقع کی جائے اور جب آپ ایورس(Evros) کے مقام سے زمینی سرحد سے یونان آتے ہیں تو سیاسی پناہ کے لیے کیسے درخواست دیتے ہیں۔

آپ دیگر خطرات کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں جن کا آپ سرحد پر سامنا کر سکتے ہیں بشمول ڈوبنا، ہائپوترمیا اور ریلوے حادثات سمیت یہاں۔

کور تصویر: Konstantinos Tsakalidis / ال جزیرہ (photo's color edited slightly)
ٹویٹ اور ویڈیو: ہیومن رائٹس واچ