لیسووس جزیرے پر زندگی: خواتین کی آواز

جب ہم لیسووس جزیرے پر تھے،تو ہم نے کچھ خواتین سے یونان میں آنے کے بعد ان کی زندگی میں تبدیلیوں کے بارے میں بات کی. ہم نے ان سے کیمپ سے متعلق روزمرہ کی جدوجہد اور محفوظ جگہ تک پہنچنے کے لئے طویل سفر کی کہانیاں سنی، لیکن ہم ان مشکلات کے سامنے بھی ان کی ہمت اور حوصلے سے بہت متاثر ہوئے. آئیے ان خواتین کو اور وہ تمام خواتین جو یونان بھر میں ہیں ان کو داد دیں۔ 👏💪

یہاں ان کی کچھ کہانیاں یہ ہیں . نام تبدیل کردیئے گئے ہیں.

Sahar-7-1

"میں نے یونانی جزائر تک پہنچنے کے لئے پانچ بار کوشش کی. چوتھی کوشش پر، کشتی ڈوب گئی. میں نے یونان اور اس کے بعد بیلجیم تک اپنے بچوں کے ساتھ دوبارہ ملنے کے لئے بار بار کوشش کی.

بغداد میں، میں ایک خاتون خانہ/گھریلوخاتون تھی. اگر میں بیلجیم پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہوں تو، میں کام کرنا چاہتی ہو ں کیونکہ میں اپنے بچوں کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں. میرے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے اور میں وہاں ہونا چاہتی ہوں! میں اپنے تمام بچوں کو دیکھنا چاہتی ہوں، ان کے ساتھ رہنا اور ان کے خاندانوں کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہوں.

موریا میں سب مجھے بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ میں ناچتی ہوں، کھانا پکاتی ہوں اور سب کے ساتھ اپنا کھانا تقسیم کرتی ہوں. ہم سب نے میری سالگرہ کے لئے ایک پارٹی رکھی اور ہم سب میرے خیمے میں جمع ہوئے اور جشن منایا. یہی زندہ رہنے کا راستہ ہے. ہم ایک دوسرے کو طاقت دیتے ہیں. "- سوہا Suha، عراق

Hakime-2

یونان کے لئے ہمارا سفر انتہائی مشکل تھا. ہم چار گھنٹے تک ترکی کے جنگلات کو پار کر رہے تھے. میری بیٹی گر گئی اور اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا. پھر، ہم تین گھنٹے تک کشتی پر تھے.

میں اپنے بچوں کے لئے ایک محفوظ جگہ تلاش کر رہی تھی اور ہمیں یہاں کے جزیرے پر کاراتپے مل گیا. مجھے امید ہے کہ میں اپنے بیٹے کو ایتھنز میں مل سکوں تاکہ میرا خاندان ایک ساتھ رہ سکے.

ایتھنز سے، ہم کہیں آگے جائیں گے جہاں ہمارے بچے پڑھ لکھ سکیں اور ترقی کرسکیں. "- ہنان Hanan، عراق

Siham-6

"میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم جنگ سے فرار ہو گئے ہیں. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کہاں ہیں. سات سال تک، ہم بمباریوں کو سنتے رہے ہیں. ہم یہاں لیسووس میں محفوظ ہیں اور ہم اس سے خوش ہیں. "- سنہم Sinham، شام

Hanan-4-2

"اگر مجھے پتا ہوتا کہ ہمیں ان خالات کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں شام میں ہی رہتی. موریہ میں، میرے شوہر نے بولنا چھوڑ دیا اور وہ ہمیشہ ناراض رہتے تھے. میری بیٹی کیمپ میں گم جاتی تھی اور میں اسے گھنٹوں ڈھونڈتی رہتی تھی. جب باہر لڑایاں ہوتی تھیں، مجھے اپنے دل کو مضبوط کر کے اپنے خیمہ چھوڑ کر ٹوائلٹ جانا پڑتا تھا. یہ ایک بھیانک خواب تھا جس نے ہمیں بلکل بدل دیا.

کارا تپے کیمپ میں، میرے پاس تنہائی ہے، میں اپنے شوہر سے بات کر سکتی ہوں، میں اپنے کپڑے بدل سکتی ہوں. میں اپنے کنٹینر کو ... اپنا گھر سمجھتی ہوں.

میری بہنیں جرمنی میں رہتی ہیں. میں ان کے ساتھ دوبارہ اکٹھا ہوناچاہتی ہوں، زبان سیکھنا اور وہاں میک اپ، ہیئر ڈریسنگ یا سلائی میں ملازمت تلاش کرنا چاہتی ہوں. "- انین ال حزین Anin el Hazen، شام

Cheryl-5

میں اپنی دو آنٹیوں کے ساتھ یونان پہنچی۔ ایک لیسووس میں ایک سال انتظار کرنے کے بعد اپنے دو بچوں کے ساتھ زمبابوے واپس چلی گئیں اور ایک اپنی بیٹی کے ساتھ ایتھنز میں ہیں، اس لیے میں یہاں اکیلی ہوں۔

جب فروری 2017 میں میرا پہلا انٹرویو ہوا تھا تو، میرے پاس میرے دستاویزات نہیں تھے اور انہوں نے یقین نہیں کیا تھا کہ میں نابالغ ہوں۔ انہوں نے صرف میری طرف دیکھا اور کہا کے تم نابالغ نہیں ہو۔ شاید اس لیے کہ میرا جسم بڑا ہے۔

میں نے پورا موسم سرما، برف میں، موریا میں خیمے میں گزارا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جب ہم نے برف دیکھی تھی۔

جب میری پناہ کی درخواست دوسری بار مسترد کی گئی تو مجھے دو مہینے تک قید میں رکھا گیا. یہ بہت مشکل تھا. میرے پاس پورے دن کرنے کو کچھ نہیں تھا لہذا میں بہت سارے ناول پڑھتی تھی اور لکھتی تھی. یہاں تک کہ میں نے بھی پوری بائبل بھی پڑھی۔

میں امید کر رہی ہوں کہ میں ترکی واپس نہیں بھیج دی جاؤں گی کیونکہ میں یہاں ضم ہو گئی ہوں۔ میں میتلینی، لیسووس میں رہنا چاہتی ہوں۔ میں اکاؤنٹنٹ بننا چاہتی ہوں." -شیرل Cheryl,، زمبابوے

Sara-5

جب میں لیسووس پہنچی اور میرا پہلا انٹرویو ہوا، میں صدمہ میں تھی۔ میں کچھ بھی یاد نہیں کر سکی ... میں یہاں کیوں آئی، میں یہاں تک کیسے پہنچی۔

میں اپنے بہترین سال میں آیسوبوکس میں گزار رہی ہوں ... وہ سال جب میرا دماغ ترو تازہ ہے، میں تعلیم حاصل کر سکتی ہوں.

میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے، اپنے اور اپنے خاندان کے لئے کچھ اچھا کرنے کے لئے پڑھنا چاہتی ہوں۔ " - ساراSara، افغانستان